حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مرکزی مسجد و امام بارگاہ بڈگام جموں وکشمیر میں نمازِ جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے آغا سید حسن نے کہا کہ شہید رہبر معظم کی خدمات صرف ایران تک محدود نہیں، بلکہ اسلامی انقلاب کے استحکام، مسلم امہ کے اتحاد، مظلومین کی حمایت اور ظلم کے خلاف مزاحمت کی تاریخ کا ایک روشن باب ہیں۔ امام خمینیؒ کے انقلاب کی حفاظت اور ایران کو ایک مضبوط، خودمختار اور بااثر قوت بنانے میں ان کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج ایران جس استقامت اور قوت کے ساتھ عالمی دباؤ کا مقابلہ کر رہا ہے، اس میں شہید رہبر معظم کی بصیرت، قیادت اور جدوجہد کا بنیادی کردار ہے؛ امریکہ اور اسرائیل سمیت بڑی طاقتوں کے مسلسل دباؤ کے باوجود ایران کا اپنے اصولی مؤقف پر قائم رہنا ان کی قیادت کی میراث ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری مسلم امہ شہید رہبرِ معظم کی خدمات، استقامت اور مظلومین کی حمایت کو قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
آغا سید حسن نے واضح کیا کہ اختلاف رائے کو توہین کا جواز نہیں بنایا جاسکتا اور آزادیٔ اظہار کو مذہبی شخصیات کی تضحیک یا مذہبی جذبات مجروح کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق فوری اور سخت کارروائی کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہم توقع رکھتے ہیں کہ حکام اس معاملے میں فیصلہ کن کارروائی کریں گے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہو
آغا سید حسن نے عوام بالخصوص نوجوانوں سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کسی بھی اشتعال انگیزی کا جواب پُرامن، آئینی اور قانونی طریقے سے دینے کی اپیل کی۔









آپ کا تبصرہ